ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / مودی کی قیادت میں آئندہ لوک سبھا انتخاب لڑنے کو لے کرادھو اور پاسوان میں جنگ

مودی کی قیادت میں آئندہ لوک سبھا انتخاب لڑنے کو لے کرادھو اور پاسوان میں جنگ

Fri, 05 May 2017 22:24:24    S.O. News Service

نئی دہلی، 5/مئی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)نریندر مودی کی قیادت کو لے کر این ڈی اے حکومت کی ہی دواہم اتحادی پارٹی کے سربراہ رام ولاس پاسوان اور ادھو ٹھاکرے آپس میں بھڑ گئے ہیں۔دراصل شیو سینا سربراہ ٹھاکرے نے مودی کی ہی قیادت میں اگلا الیکشن لڑنے کو لے کر این ڈی اے کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہوئے تجویز کی اچانک مخالفت کردی ہے، جس پر لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی)کے صدر پاسوان نے اعتراض کیا ہے۔مرکزی وزیر پاسوان کا کہنا ہے کہ ادھو ٹھاکرے اس تجویز پر بے وجہ تنازعہ کھڑا کر رہے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2019کا الیکشن لڑنے کو لے کر این ڈی اے کے تمام اتحادیوں کی موجودگی میں ہی تجویز کو منظوری دی گئی تھی۔واضح رہے کہ این ڈی اے میں 33پارٹیاں بی جے پی کی اتحادی ہیں اور ادھو ٹھاکرے سمیت اس اجلاس میں شامل تمام لیڈروں نے ایک آواز میں اس تجویز کو منظوری دے دی۔ادھو ٹھاکرے پر طنز کستے ہوئے پاسوان نے کہا کہ کیا ادھو جی بچے ہیں، جو یہ تجویز رکھے جانے کے وقت پر اعتراض نہیں کر پائے۔انہیں تجویز منظور ہونے کے ایک ماہ بعد آخر اس کی یاد کیوں آئی؟میٹنگ کے اندر کچھ اور اور باہر میں کچھ اور نہیں بولنا چاہیے۔پاسوان نے ساتھ ہی کہاکہ ہم دونوں کے نظریات میں زبردست فرق ہے، لیکن پھر بھی این ڈی اے کا حصہ ہونے کے ناطے میں نے ان (ادھو)کی عزت کرتا ہوں، ہم دونوں الگ الگ پارٹیوں میں ہوکر بھی بی جے پی کے ساتھ حکومت میں ہیں۔نریندر مودی ہمارے لیڈر ہیں اور ہمیں ان پر اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے، اس لیے لوک جن شکتی پارٹی نے کہا تھا کہ جس طرح سے نریندر مودی کے تئیں عوام کا اعتماد ہے، وہ یہ چاہتے ہیں کہ نریندر مودی 2019میں ہی نہیں، بلکہ2024میں بھی وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار ہوں۔دراصل یہ سارا تنازعہ شیوسینا کے ترجمان ’سامنا‘ میں چھپے اس مضمون سے پیدا ہواہے، جس میں ادھو نے کہا کہ این ڈی اے کی میٹنگ میں جو تجویز منظور ہوئی تھی، اس میں نریندر مودی کی قیادت میں الیکشن لڑنے کی بات پاسوان نے زبردستی شامل کروادی تھی۔ادھو نے کہاکہ پاسوان نے زبردستی لکھوایا کہ 2019میں مودی کی قیادت میں الیکشن لڑیں گے۔انتخابات میں اب صرف دو سال باقی ہیں،ایسے میں اپنی قیادت کوتھوپنے کی اتنی جلد بازی کیوں؟ ایسے فیصلے شیوسینا کو ہرگز منظور نہیں۔اس پر پاسوان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، یہ خبر آئی ہے کہ زبردستی لکھوایا گیا ہے، مجھے تعجب ہے،میں اتنا پاورفل ہو گیا ہوں کہ سبھی پارٹیوں کے صدور کی موجودگی کے باوجود میں نے زبردستی لکھوا لیا، یہ بات سراسر غلط ہے۔
 


Share: